اردو کے وہ الفاظ جن کا املا اکثر غلط لکھا جاتا ہے: درست صورت، اصول اور مثالیں
اردو میں سب سے زیادہ غلطیاں ہمزہ (لیے، چاہیے، گئے)، تنوین (تقریباً، فوراً)، کھڑے زبر (اعلیٰ)، ہ اور ھ کے فرق اور عربی ك/ي کی جگہ اردو ک/ی کے استعمال میں ہوتی ہیں۔ معیاری املا میں عموماً رشید حسن خان کی «اردو املا» کی سفارشات مانی جاتی ہیں۔ اس گائیڈ میں ہر جوڑے کی درست صورت، وجہ اور مثال ہے۔
مختصر جواب
اردو میں املا کی غلطیاں پانچ بڑے خانوں میں آتی ہیں: ہمزہ (لیے نہ کہ لئے، چاہیے نہ کہ چاہئے، گئے نہ کہ گۓ)، تنوین (تقریباً نہ کہ تقریبن)، کھڑا زبر (اعلیٰ نہ کہ اعلی)، ہ اور ھ کا فرق (پھل اور پہل دو الگ لفظ ہیں)، اور عربی حروف (ك، ي، ه) کا اردو حروف (ک، ی، ہ) کی جگہ آ جانا۔ اشاعتی حلقوں میں املا کے لیے رشید حسن خان کی کتاب «اردو املا» (1974) کی سفارشات کو عملاً حوالہ مانا جاتا ہے، اور لغت کے لیے اردو لغت بورڈ کراچی کی «اردو لغت» دیکھی جاتی ہے۔ نیچے ہر الجھن کا اصول، جدول اور مثالیں ہیں۔
یہ بھی یاد رکھیں کہ اردو املا میں چند الفاظ پر لغات اور اہلِ علم میں اختلاف ہے۔ جہاں ایسا ہے وہاں ہم نے وضاحت کر دی ہے، اور اپنے ادارے یا جریدے کا ضابطہ ہو تو وہ مقدم ہے۔
جدول: عام غلطیاں اور درست املا
| غلط یا کم معیاری | درست صورت | کیوں | مثال |
|---|---|---|---|
| لئے | لیے | ی کے ساتھ لکھی جاتی ہے، ہمزہ نہیں | یہ کتاب میں نے تمہارے لیے منگوائی ہے۔ |
| چاہئے، چاہیئے | چاہیے | وہی اصول: ہمزہ کے بغیر | امتحان سے پہلے نوٹس دہرانے چاہییں۔ |
| کیجئے، دیجئے | کیجیے، دیجیے | احترام کے امر میں بھی ی | براہِ کرم فارم جمع کیجیے۔ |
| گۓ | گئے | ہمزہ والی ی (ئ) کے بعد ے | ہم سب لاہور گئے تھے۔ |
| تقریبن | تقریباً | عربی تنوین الف پر دو زبر سے | تقریباً بیس منٹ لگے۔ |
| فورن | فوراً | تنوین ن سے نہیں لکھی جاتی | فوراً جواب بھیج دیں۔ |
| اعلی | اعلیٰ | آخری الف مقصورہ پر کھڑا زبر | ان کا اعلیٰ کردار سب کو معلوم ہے۔ |
| بلکل | بالکل | الف کے ساتھ | بالکل ٹھیک۔ |
| مسلہ | مسئلہ | ہمزہ باقی رہتا ہے | یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ |
| استمعال | استعمال | حروف کی ترتیب: ع پہلے، م بعد میں | اس کا استعمال آسان ہے۔ |
| اسلیے | اس لیے | دو الگ الفاظ | اس لیے میں نہیں آیا۔ |
| كتاب (عربی ك) | کتاب (اردو ک) | کمپیوٹر کے لیے مختلف حرف | کتاب میز پر رکھی ہے۔ |
| هے (عربی ه) | ہے (اردو ہ) | مختلف حرف، تلاش بھی خراب ہوتی ہے | یہ درست ہے۔ |
پہلا خانہ: ہمزہ کی الجھن
اردو میں ہمزہ کی بحث تاریخی ہے۔ پرانی تحریروں میں «لئے، چاہئے، کیجئے» عام تھے، مگر رشید حسن خان نے سفارش کی کہ جہاں ہمزہ کے بغیر بھی تلفظ واضح رہتا ہے وہاں ی لکھی جائے۔ اس لیے آج کی معیاری تحریر میں ترجیح یہ ہے:
- لیے (لئے نہیں)، اور اسی طرح «اس لیے»، «کس لیے»۔
- چاہیے (چاہئے یا چاہیئے نہیں)، اور جمع میں «چاہییں»۔
- کیجیے، دیجیے، لیجیے، پیجیے (کیجئے وغیرہ نہیں)۔
- گئے، آئے، لائے، سنائے میں ہمزہ رہتا ہے، کیونکہ یہاں ئ اور ے مل کر مخصوص آواز دیتے ہیں۔ یہاں غلطی یہ ہوتی ہے کہ لوگ «گۓ» لکھ دیتے ہیں، جس میں ہمزہ بڑی ے کے اوپر لگا ہوتا ہے۔
- مسئلہ میں ہمزہ جوں کا توں رہتا ہے؛ «مسلہ» غلط ہے۔
ایک عملی ترکیب: لیے، چاہیے اور کیجیے جیسے الفاظ کی فہرست ذہن میں بنا لیں جن میں ی لکھی جاتی ہے، اور گئے، آئے جیسے ماضی کے صیغوں میں ہمزہ رکھیں۔ باقی مشکوک الفاظ کو لغت میں دیکھ لیں، کیونکہ اردو املا میں استثنا بھی ہیں۔
ہمزہ پر مثالیں
| غلط | درست |
|---|---|
| میں نے آپ کے لئے چائے بنائی۔ | میں نے آپ کے لیے چائے بنائی۔ |
| ہمیں وقت پر پہنچنا چاہئے۔ | ہمیں وقت پر پہنچنا چاہیے۔ |
| براہ کرم دستخط کیجئے۔ | براہِ کرم دستخط کیجیے۔ |
| طلبہ کل کراچی گۓ۔ | طلبہ کل کراچی گئے۔ |
دوسرا خانہ: تنوین
تنوین عربی الاصل الفاظ کے آخر میں آتی ہے اور الف کے اوپر دو زبر کی صورت میں لکھی جاتی ہے: تقریباً، فوراً، اصولاً، یقیناً، عموماً، خصوصاً، غالباً۔ بول چال کی تحریر، چیٹ اور سوشل میڈیا میں اسے اکثر «تقریبن، فورن، عموماً کی جگہ عمومن» لکھ دیا جاتا ہے، حالانکہ ن کی صورت املا میں جگہ نہیں رکھتی۔
دو عملی باتیں: ایک، موبائل کی عام اردو کی بورڈ پر دو زبر کی علامت اکثر پہلے صفحے پر نہیں ہوتی، اس لیے لوگ اسے چھوڑ دیتے ہیں یا ن لکھ دیتے ہیں؛ علامات والے حصے میں دیکھیں یا الفاظ کو اپنی لغت میں محفوظ کر لیں۔ دوسری، تنوین والے لفظ کو جملے میں فعل کی صفت کی طرح استعمال کریں: «وہ فوراً آیا»، «یہ اصولاً درست ہے»۔
تیسرا خانہ: کھڑا زبر
کھڑا زبر (ٰ) چند عربی الاصل الفاظ میں ہوتا ہے جن کے آخر میں الف مقصورہ ہو: اعلیٰ، عیسیٰ، موسیٰ، مصطفیٰ، تعالیٰ۔ تلفظ میں یہ الف کی آواز دیتا ہے، لیکن لکھائی میں ی کے اوپر چھوٹا الف آتا ہے۔ عام غلطی اسے چھوڑ دینا ہے: «اعلی تعلیم» کی جگہ اعلیٰ تعلیم۔
یاد رکھنے کی بات: کھڑا زبر والے الفاظ کا ہجا تلفظ سے نہیں پہچانا جاتا، انہیں یاد کرنا پڑتا ہے۔ نام لکھتے وقت (موسیٰ، عیسیٰ) خاص خیال رکھیں، کیونکہ نام کی غلطی رسمی دستاویز میں زیادہ کھٹکتی ہے۔
چوتھا خانہ: ہ اور ھ کا فرق
اردو میں دو چشمی ھ آواز کو سانس دار بناتی ہے (بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، ڈھ، کھ، گھ)، جب کہ ہ ایک علیحدہ حرف ہے۔ دونوں ملنے سے بالکل الگ الفاظ بنتے ہیں:
| جوڑا | معنی |
|---|---|
| پھل / پہل | پھل: میوہ یا نتیجہ؛ پہل: آغاز کی کوشش، پیش قدمی |
| دھن / دہن | دھن: لگن یا موسیقی کی دھن؛ دہن: منہ |
عام غلطی یہ ہے کہ لوگ تیز لکھتے ہوئے ھ کی جگہ ہ لکھ دیتے ہیں اور اسپیل چیکر اسے پکڑ نہیں پاتا کیونکہ ہجا اتفاقاً ایک اور درست لفظ بن جاتا ہے (پھل / پہل)۔ ایسی غلطی صرف جملہ پڑھنے سے پکڑی جاتی ہے۔ مثال: «اس نے بات کرنے میں پھل کی» غلط لگتا ہے، جب کہ «اس نے بات کرنے میں پہل کی» درست ہے۔
پانچواں خانہ: ك، ي، ه یا ک، ی، ہ؟
یہ سب سے خاموش غلطی ہے، کیونکہ آنکھ سے فرق مشکل سے دکھتا ہے۔ نیچے کی جدول میں یونی کوڈ حروف کا فرق ہے:
| اردو حرف | عربی حرف جو غلطی سے آ جاتا ہے |
|---|---|
| ک (U+06A9) | ك (U+0643) |
| ی (U+06CC) | ي (U+064A) |
| ہ (U+06C1) | ه (U+0647) |
یہ غلطی عام طور پر عربی کی بورڈ، دوسری ایپ یا عربی ویب سائٹ سے کاپی کرنے پر ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ: لفظ اسکرین پر ٹھیک نظر آتا ہے مگر تلاش میں نہیں ملتا، اسپیل چیکر اسے غلط بتاتا ہے، اور ڈیٹا بیس میں ایک ہی لفظ کی دو صورتیں بن جاتی ہیں۔ علاج یہ ہے کہ اردو کی بورڈ استعمال کریں اور مشکوک متن کو اردو اسپیل چیکر سے گزاریں، جو ایسے حروف الگ سے پکڑتا ہے۔
چھٹا خانہ: ہم آواز حروف
اردو میں عربی اور فارسی سے آئے الفاظ کی وجہ سے کئی حروف کی آواز ایک جیسی ہے: ز، ذ، ض، ظ سب کی آواز زے کے قریب ہے؛ س، ص، ث سین جیسے ہیں؛ ت اور ط میں تے کی آواز ہے؛ ح اور ہ بھی کئی لہجوں میں قریب سنائی دیتے ہیں۔ اسی لیے لوگ تلفظ سے ہجا کا اندازہ لگا کر غلطی کر بیٹھتے ہیں۔
| غلط | درست | یاد رکھنے کی بات |
|---|---|---|
| زرورت | ضرورت | ض سے شروع ہوتا ہے |
| زکر | ذکر | ذ سے |
| سبوت | ثبوت | ث سے |
| توتا | طوطا | ط سے |
| سبح | صبح | ص سے |
ان کا کوئی آسان قاعدہ نہیں؛ سوائے اس کے کہ آپ لفظ کو ایک بار صحیح دیکھ کر یاد کر لیں۔ ان غلطیوں کو پکڑنے میں اسپیل چیکر زیادہ کارآمد ہے، کیونکہ ایسے ہجے لغت میں نہیں ہوتے۔ ایک مفید عادت یہ ہے کہ جب کسی لفظ کے ہجے میں شک ہو تو اسے لکھ کر چھوڑیں نہیں، فوراً لغت میں دیکھ لیں اور اپنی ذاتی فہرست میں شامل کر لیں۔ دو ہفتے میں آپ کی عام غلطیاں کم ہو جاتی ہیں۔ مترادفات دیکھتے وقت بھی نئے لفظ کا ہجا لغت سے ملا لیں۔
وہ جوڑے جن پر اختلاف ہے
چند الفاظ میں رشید حسن خان کی ترجیح اور رائج عام استعمال میں فرق ملتا ہے:
- ذمے داری / ذمہ داری: «اردو املا» میں «ذمے داری» ترجیحی ہے، مگر «ذمہ داری» بھی بہت چھپتا ہے۔
- علاحدہ / علیحدہ: رشید حسن خان «علاحدہ» کو ترجیح دیتے ہیں، جب کہ «علیحدہ» روزمرہ میں عام ہے۔
ہم نے یہ ترجیحات اپنے املا کے ڈیٹا سیٹ کے مطابق لکھی ہیں؛ ڈیٹا سیٹ کی یہ سطریں ہم نے ابھی لغت کے متن سے ملا کر مکمل تصدیق نہیں کیں (اردو لغت بورڈ کی سائٹ ہماری جانچ کے وقت کھل نہ سکی)، اس لیے سرکاری یا اشاعتی کام میں اپنے ادارے کے ضابطے یا لغت سے ایک بار ملا لیں۔ اصول یہ ہے کہ ایک تحریر میں ایک ہی صورت برقرار رکھیں۔
الگ لکھیں یا ملا کر؟
- اس لیے، کس لیے، اسی لیے: «لیے» الگ لکھا جاتا ہے۔ «اسلیے» غلط ہے۔
- کے لیے: تین الفاظ، ملا کر نہیں۔
- اگرچہ، چنانچہ، لہٰذا: ایک لفظ۔ «لہٰذا» میں بھی کھڑا زبر ہے۔
کیسے جانچیں کہ لفظ درست ہے؟
- لفظ کو اردو لغت میں تلاش کریں۔ یہ اردو الفاظ کی کھلی فہرست میں دیکھتا ہے اور تجاویز دیتا ہے۔
- شک ہو تو معنی بھی دیکھ لیں؛ ہ اور ھ کے جوڑوں میں معنی ہی فرق بتاتے ہیں۔
- پورا متن اردو اسپیل چیکر میں ڈالیں۔ یہ آپ کے براؤزر ہی میں چلتا ہے، تنوین (تقریبن کی جگہ تقریباً) اور ك/ي والی غلطیاں پکڑتا ہے، اور ہر مشورہ آپ کو دکھاتا ہے۔
- اس کے بعد خود ایک بار بلند آواز سے پڑھیں۔ اسپیل چیکر وہ غلطی نہیں پکڑ سکتا جہاں ہجا کسی دوسرے درست لفظ جیسا ہو۔
- گرامر اور رموزِ اوقاف کے لیے اردو گرامر چیکر بھی آزما سکتے ہیں۔ رموز میں اردو کے نشان استعمال کریں: ، (کاما)، ؟ (سوالیہ) اور ۔ (ختمہ)۔
اسپیل چیکر ایک مددگار ہے، حتمی فیصلہ ساز نہیں۔ جدید اردو میں انگریزی الفاظ، نام اور اصطلاحات بھی آتی ہیں جو لغت میں نہ ہوں تو غلط نشان زد ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا ہر مشورے کو خود دیکھ کر قبول کریں۔ تفصیلی املا کے اندراجات کے لیے درست املا کا حصہ بھی دیکھ سکتے ہیں۔
امتحان اور دفتر میں املا کا اثر
اسکول اور کالج کے مضامین میں املا کی غلطیاں اکثر نمبر کم کراتی ہیں، اور مقابلے کے امتحانات میں اردو کا پرچہ ہو تو یہی غلطیاں تاثر خراب کرتی ہیں۔ دفتر میں ای میل، درخواست یا رپورٹ میں «تقریبن» یا «چاہئے» جیسی صورتیں بے توجہی کا تاثر دیتی ہیں، خاص طور پر جب آپ کا مخاطب رسمی ہو۔ بیرونی ملازمت کی درخواست اردو میں ہو تو بھی یہی بات لاگو ہے۔ عملی تجویز: لکھنے کے بعد دس منٹ صرف املا کی جانچ کے لیے رکھیں، اور اپنی اکثر غلطیوں کی ایک ذاتی فہرست بنا لیں۔
عام غلط فہمیاں
- «ہمزہ جتنا زیادہ، اتنا رسمی۔» نہیں؛ غیر ضروری ہمزہ پرانا رواج ہے، رسمی ہونے کی علامت نہیں۔
- «سب لوگ یہی لکھتے ہیں، اس لیے درست ہے۔» رواج اور معیار میں فرق ہو سکتا ہے۔
- «اسپیل چیکر نے کچھ نہیں پکڑا تو سب ٹھیک ہے۔» ہم آواز یا ہم شکل الفاظ (پھل / پہل) ہجے کی جانچ سے نکل جاتے ہیں۔
- «ك اور ک ایک ہی ہیں۔» نظر میں ملتے ہیں، کمپیوٹر کے لیے الگ حروف ہیں۔
ایک خود امتحان
درج ذیل جملوں میں غلطیاں تلاش کریں:
- ہمیں یہ کام فورن ختم کرنا چاہئے۔
- اسلیے میں اعلی تعلیم کے لئے لاہور گۓ۔
- اس مسلہ پر بالکل غور نہیں کیا گیا۔
جواب: (1) فوراً اور چاہیے؛ (2) اس لیے، اعلیٰ، لیے، گئے؛ (3) مسئلہ۔ تین جملوں میں مجموعی طور پر سات غلطیاں تھیں؛ اگر آپ نے سب پکڑ لیں تو اوپر کے پانچوں خانے آپ کو یاد ہیں۔
ٹولز آزمائیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
لیے درست ہے یا لئے؟
معیاری املا میں «لیے» ہے۔ رشید حسن خان کی «اردو املا» کی سفارش کے مطابق ہمزہ کی جگہ ی لکھی جاتی ہے، یعنی لیے، چاہیے، کیجیے۔ «لئے» پرانا رواج ہے جو اب بھی نظر آتا ہے، مگر نئی معیاری تحریر میں اس سے بچنا بہتر ہے۔
تقریباً لکھنا ضروری ہے یا تقریبن بھی چلے گا؟
تحریر میں تقریباً لکھیں۔ یہ عربی تنوین ہے جو الف پر دو زبر سے ظاہر ہوتی ہے۔ «تقریبن» صرف بول چال یا چیٹ کی غلط صورت ہے، اور رسمی خط، اسائنمنٹ یا رپورٹ میں اسے غلطی شمار کیا جائے گا۔ یہی اصول فوراً اور یقیناً پر بھی لاگو ہے۔
ك اور ک میں کیا فرق ہے؟
ك عربی کاف ہے (U+0643) اور ک اردو کاف (U+06A9)۔ ی اور ہ کے بھی عربی جوڑ ہیں۔ شکل ملتی ہے مگر کمپیوٹر انہیں الگ حروف سمجھتا ہے، جس سے تلاش اور اسپیل چیک خراب ہوتے ہیں۔ اردو کی بورڈ استعمال کریں اور کاپی شدہ متن کو اسپیل چیکر سے گزاریں۔
کیا اسپیل چیکر ہر غلط املا پکڑ لیتا ہے؟
نہیں۔ وہ لغت اور قواعد سے مماثلت دیکھتا ہے، اس لیے ایسی غلطی چھوڑ سکتا ہے جہاں غلط ہجا بھی کوئی درست لفظ بنا دے، جیسے پھل کی جگہ پہل۔ نام اور نئی اصطلاحات بھی غلط نشان زد ہو سکتی ہیں۔ آخر میں پورا متن خود پڑھ کر دیکھیں۔
متعلقہ رہنما
- اردو میں خلاصہ کیسے لکھیں: خلاصہ، تلخیص اور مفہوم کا فرق، مرحلہ وار طریقہ اور مثالیں — خلاصہ لکھنے کا مطلب ہے کسی تحریر کے بنیادی خیالات اپنے الفاظ میں، اصل سے بہت کم لفظوں میں بیان کرنا۔ پہلے پوری عبارت پڑھ…
- اردو میں پیرا فریز کیسے کریں: پانچ طریقے، پہلے اور بعد کی مثالیں — پیرا فریز کا مطلب ہے کسی عبارت کا مفہوم اپنے الفاظ اور اپنی جملہ ساخت میں دوبارہ لکھنا۔ اردو میں اس کے مؤثر طریقے یہ ہیں…
- سرقہ (پلیجرزم) کیا ہے؟ تعریف، اقسام، مثالیں اور بچاؤ کے طریقے — سرقہ، جسے طلبہ پلیجرزم بھی کہتے ہیں، کسی دوسرے کے الفاظ، خیال، اعداد یا تحقیق کو اس کے حوالے کے بغیر اپنی تحریر کے طور پ…
- اردو ٹائپنگ کیسے کریں: موبائل اور کمپیوٹر پر مکمل رہنما — اردو ٹائپ کرنے کے لیے فون یا کمپیوٹر کی ترتیبات میں اردو کی بورڈ شامل کریں، پھر صوتی (فونیٹک) یا روایتی لے آؤٹ میں سے وہ…