ایبسٹریکٹ میں کیا ہونا چاہیے؟
ایبسٹریکٹ آپ کی پوری تحقیق کا مختصر آئینہ ہے۔ قاری اسے پڑھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ مقالہ پڑھنا ہے یا نہیں۔ اس میں چار چیزیں ضروری ہیں:
- پس منظر اور مقصد: مسئلہ کیا ہے اور تحقیق کیوں کی گئی۔
- طریقہ: ڈیزائن، نمونہ، آلات، تجزیہ۔
- نتائج: اہم ترین اعداد یا مشاہدات۔
- نتیجہ: اس سے کیا نکلتا ہے اور کیا سفارش ہے۔
اس میں حوالے، غیر وضاحت شدہ مخففات اور نئی معلومات نہیں ہونی چاہئیں جو مقالے میں نہ ہوں۔
ٹول کا طریقہ
آپ نوٹس دیتے ہیں اور ٹول انہیں اسی ترتیب میں ایک پیراگراف میں ڈھالتا ہے، پھر کلیدی الفاظ لکھتا ہے۔ نوٹس میں جتنی ٹھوس باتیں ہوں (نمونے کا حجم، طریقہ، بڑا نتیجہ) ایبسٹریکٹ اتنا مضبوط بنے گا۔ اگر آپ نتائج نہیں دیں گے تو ٹول انہیں نہیں بنائے گا، بلکہ عمومی الفاظ لکھے گا، جیسے «نتائج بحث میں پیش کیے گئے ہیں»۔ یہ دیکھنا آپ کا کام ہے کہ آپ نے وہ خانہ خالی نہ چھوڑا ہو۔
پاکستانی جامعات اور رسالوں کے لیے
الفاظ کی حد رسالے سے رسالے اور یونیورسٹی سے یونیورسٹی بدلتی ہے؛ ہدایت نامہ دیکھیں اور مسودہ حسبِ ضرورت چھوٹا بڑا کریں۔ کئی جامعات اردو اور انگریزی دونوں ایبسٹریکٹ مانگتی ہیں، اس لیے دونوں زبانوں میں نوٹس دے کر دو مسودے بنوائیں اور آپس میں ملائیں۔ حوالے کے لیے حوالہ جات جنریٹر اور مقالے کے ڈھانچے کے لیے تھیسس کا عنوان اور خاکہ دیکھیں۔
حدود
اردو کے لیے ماڈل کا معیار انگریزی جتنا مضبوط نہیں، اس لیے اصطلاحات اور جملوں کو پڑھ کر درست کریں۔ ایک بار میں 6,000 حروف تک نوٹس لیے جاتے ہیں۔ ٹول آپ کے نتائج کی درستی نہیں جانچتا اور مقالے کے اصل متن سے بنائے ہوئے مسودے کو تحقیق کی جگہ نہیں دیتا۔ جمع کرانے سے پہلے ہر دعویٰ اپنے مقالے سے ملائیں۔