اچھی سرخی کی پہچان
اچھی سرخی بتاتی ہے کہ قاری کو آگے کیا ملے گا اور اسے پڑھنے کی وجہ دیتی ہے۔ اردو صحافت میں سرخی عموماً مختصر اور فعل پر مبنی ہوتی ہے؛ بلاگ اور مضمون میں سوال، عدد یا وعدہ زیادہ عام ہے۔ جو سرخی متن میں پورا نہ ہو، وہ ایک بار کلک دلاتی ہے مگر اعتماد گنوا دیتی ہے۔
دونوں صورتوں کا فرق
| صورت | زیادہ سے زیادہ الفاظ | انداز | کب |
|---|---|---|---|
| تخلیقی | 12 | سوال، عدد، تضاد، فائدہ، تجسس | بلاگ، مضمون، ویڈیو |
| مختصر | 8 | سیدھا مدعا یا فائدہ | خبر، نیوز لیٹر، پوسٹر |
سرخی چننے کا طریقہ
- پہلے متن کا ایک جملے میں خلاصہ لکھیں۔ سرخی اسی سے نکلنی چاہیے۔
- دس میں سے وہ دو تین چنیں جو متن کا وعدہ سچ بتاتی ہوں۔
- ایک سرخی میں ایک ہی وعدہ رکھیں۔
- اردو سرخی میں انگریزی الفاظ تبھی رکھیں جب آپ کے قاری وہی بولتے ہوں (مثلاً "اے آئی"، "ڈیڈ لائن")۔
- سرخی بلند آواز سے پڑھیں؛ اگر زبان اٹکے تو جملہ بدلیں۔
اردو سرخیوں میں رموزِ اوقاف
اردو میں سوالیہ نشان (؟) اور وقفہ (،) عربی طرز کے ہوتے ہیں؛ انگریزی علامت (?) اور (,) ملا کر نہ لکھیں۔ سرخی کے آخر میں فل اسٹاپ (۔) عموماً نہیں لگتا۔ املا اور رموز کی جانچ کے لیے اردو اسپیل چیکر اور گرامر چیکر دیکھیں۔
حدود
ٹول متن کا مطلب سمجھ کر سرخی بناتا ہے، لیکن حقائق کی تصدیق نہیں کرتا۔ بعض سرخیاں متن کے مطابق نہ ہوں تو انہیں رد کر دیں۔ اے آئی کی لکھی کوئی بھی سرخی آپ کے جائزے کی محتاج ہے۔ سرخی ہر موقع پر کلکس یا رینکنگ نہیں بڑھاتی۔ ویب صفحے کے SEO عنوان اور میٹا ڈسکرپشن کے لیے میٹا ڈسکرپشن جنریٹر بہتر ہے۔
ساتھ کیا استعمال کریں؟
آرٹیکل کا خاکہ خاکہ ساز سے بنائیں، لکھائی کے بعد جملوں کی درستی آزمائیں، اور سوشل پوسٹ کے لیے کیپشن جنریٹر دیکھیں۔