میٹا ڈسکرپشن کیا ہوتی ہے؟
میٹا ڈسکرپشن صفحے کے کوڈ میں رکھا گیا ایک مختصر خلاصہ ہے۔ گوگل اسے سرچ نتیجے میں عنوان کے نیچے دکھا سکتا ہے، مگر ہر بار نہیں: وہ کبھی صفحے کا کوئی اور حصہ چن لیتا ہے۔ اس لیے اسے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر دکھائی جائے تو قاری کلک کرنے کی وجہ پا لے۔
کتنے حروف رکھیں؟
عام رہنمائی یہ ہے کہ عنوان لگ بھگ 60 حروف اور ڈسکرپشن 120 سے 155 حروف کے درمیان ہو، تاکہ موبائل اور ڈیسک ٹاپ پر کٹنے کا امکان کم رہے۔ سرچ انجن حروف نہیں بلکہ پکسل ناپتے ہیں، لہٰذا یہ حد اندازہ ہے، قانون نہیں۔ اردو جیسے ربط والے رسم الخط میں حروف کی چوڑائی مختلف ہوتی ہے، اس لیے کٹاؤ کی جگہ اس سے کچھ آگے پیچھے ہو سکتی ہے۔
اچھی ڈسکرپشن کی ساخت
- پہلے فائدہ: قاری کو کیا ملے گا۔
- کلیدی لفظ قدرتی انداز میں: وہ لفظ جو لوگ تلاش میں لکھتے ہیں، ایک یا دو بار۔
- عمل کی دعوت: مثلاً «جانیں»، «موازنہ دیکھیں»، «آزما کر دیکھیں»، اگر صفحے کے مطابق ہو۔
- سچائی: صفحے پر جو نہیں ہے وہ وعدہ نہ کریں۔
ٹول کو کیا دیں؟
عنوان وہی دیں جو صفحے کا H1 ہے۔ کلیدی الفاظ میں اصل تلاش کا جملہ رکھیں، مثلاً «میٹرک کے بعد داخلہ»، نہ کہ صرف «تعلیم»۔ خلاصے میں صفحے کی اصل باتیں لکھیں؛ اس سے تینوں انتخاب آپ کے صفحے سے جڑے رہتے ہیں۔
ہر صفحے کی ڈسکرپشن الگ ہو
ایک ہی ڈسکرپشن پوری سائٹ پر دہرانا اچھا طریقہ نہیں۔ ہر صفحے کا اپنا موضوع ہے، اس لیے اپنی ڈسکرپشن بھی ہونی چاہیے۔ اردو ویب سائٹ پر ٹیگ میں lang="ur" اور dir="rtl" درست ہونا بھی مفید ہے۔
حدود
ٹول گوگل کی رینکنگ کی ضمانت نہیں دیتا اور نہ ہی کلک کی شرح کا اندازہ بتاتا ہے۔ آخری فیصلہ آپ کا ہے: اپنا صفحہ کھول کر مسودے کو اس کے متن سے ملائیں۔ فی بار 6,000 حروف تک کا متن لیا جاتا ہے اور AI ٹولز پر روزانہ حد لاگو ہوتی ہے۔ متن کی لمبائی الگ سے ناپنی ہو تو الفاظ اور حروف شمار استعمال کریں۔