الفاظ کو منٹوں میں کیسے بدلا جاتا ہے؟
حساب سادہ ہے: الفاظ کی تعداد کو رفتار (الفاظ فی منٹ) سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اسی لیے 600 الفاظ کو 200 الفاظ فی منٹ پر پڑھیں تو 3 منٹ بنتے ہیں اور 130 الفاظ فی منٹ پر بولیں تو تقریباً 4.6، یعنی پانچ منٹ کے قریب۔
ٹول کون سی رفتار فرض کرتا ہے؟
| سرگرمی | رفتار (الفاظ فی منٹ) |
|---|---|
| آہستہ پڑھنا | 150 |
| اوسط پڑھنا | 200 |
| تیز پڑھنا | 250 |
| بولنا | 130 |
یہ ایڈیپٹ رائٹ کے مقرر کردہ عمومی اعداد ہیں۔ اردو کے لیے ہم نے الگ تحقیق سے ناپی ہوئی رفتار نہیں لی، اس لیے ان کو درست اصول نہیں بلکہ موٹا اندازہ سمجھیں۔ نستعلیق رسم الخط میں پڑھنے کی رفتار قاری، موضوع اور متن کی مشکل کے ساتھ بدلتی ہے۔
تقریر کی مدت کا اندازہ کیسے لگائیں؟
- پوری تقریر ٹول میں چسپاں کریں اور بولنے کا وقت دیکھیں۔
- وقفوں، شعر پڑھنے، حاضرین کے ردِ عمل اور سلائیڈ بدلنے کے لیے دس سے پندرہ فیصد گنجائش رکھیں۔
- ایک بار گھڑی لگا کر بلند آواز سے پڑھیں اور اپنی اصل رفتار سے ٹول کے اندازے کا موازنہ کریں۔
- لمبی ہو تو غیر ضروری فقرے نکالیں اور دوبارہ حساب لگائیں۔
پڑھنے کا وقت اور آسانی کا فرق
وقت صرف لمبائی ناپتا ہے، آسانی نہیں۔ ایک مختصر مگر دقیق عبارت لمبی سادہ عبارت سے دیر میں پڑھی جا سکتی ہے۔ عبارت کی دشواری کے لیے ریڈیبلٹی اسکور دیکھیں۔ صرف گنتی چاہیے ہو تو الفاظ شمار اور حد کے لیے حروف شمار موجود ہیں۔
حدود
- اندازہ ہر قاری اور ہر مقرر کے لیے یکساں نہیں ہوتا؛ ہم نے اردو کے لیے الگ رفتار کی تصدیق نہیں کی۔
- جدول، فہرستیں، تصویریں اور سلائیڈوں کی بات چیت وقت میں شمار نہیں ہوتیں۔
- الفاظ اسپیس اور لفظ کی حدود کے مطابق گنے جاتے ہیں، اس لیے ملے ہوئے یا الگ لکھے مرکبات کی گنتی میں چھوٹا فرق آ سکتا ہے۔
رازداری
حساب آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے اور متن کہیں نہیں بھیجا جاتا۔