اردو املا اور قواعد

اردو ٹائپنگ کیسے کریں: موبائل اور کمپیوٹر پر مکمل رہنما

AdeptWrite ادارتی ٹیمتازہ کاری 11 منٹ کا مطالعہ

اردو ٹائپ کرنے کے لیے فون یا کمپیوٹر کی ترتیبات میں اردو کی بورڈ شامل کریں، پھر صوتی (فونیٹک) یا روایتی لے آؤٹ میں سے وہ چنیں جو آپ کی انگلیوں کو آسان لگے۔ رومن اردو سے اردو رسم الخط میں آنے کے لیے صوتی کی بورڈ سب سے سہل ہے۔ ٹائپ کے بعد ک، ی، ہ کے درست یونی کوڈ حروف اور رموزِ اوقاف جانچ لیں۔

مختصر جواب

اردو ٹائپ کرنے کے لیے آپ کو الگ سافٹ ویئر خریدنے کی ضرورت نہیں۔ اینڈرائیڈ، آئی فون، ونڈوز اور میک، چاروں میں اردو کی بورڈ نظام کی ترتیبات سے شامل ہو جاتا ہے۔ اسے شامل کریں، ایک بار اپنی پسند کا لے آؤٹ چنیں، اور پھر روزانہ کی مشق سے رفتار آ جاتی ہے۔ اگر آپ برسوں سے رومن اردو (انگریزی حروف میں اردو) لکھتے آئے ہیں تو صوتی (فونیٹک) لے آؤٹ سے آغاز کریں، کیونکہ اس میں آپ وہی حرف دباتے ہیں جو لفظ کی آواز میں سنائی دیتا ہے۔

ٹائپنگ سیکھنے کے بعد دو باتیں پھر بھی جانچنی ہیں: پہلی، آپ کے لکھے حروف اردو کے اپنے یونی کوڈ حروف ہوں (عربی ك اور ي نہ ہوں)؛ دوسری، املا اور رموزِ اوقاف درست ہوں۔ یہ دونوں چیزیں آگے تفصیل سے آئیں گی۔

کی بورڈ شامل کرنے کا طریقہ

مینو کے نام اور ترتیب ہر ورژن اور ہر کمپنی کے مطابق بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ذیل کے راستے عمومی ہیں۔ اگر آپ کی اسکرین پر نام مختلف ہو تو ترتیبات میں «زبان»، «ان پٹ» یا «کی بورڈ» تلاش کریں۔

اینڈرائیڈ فون

  1. ترتیبات میں زبان اور ان پٹ (یا عمومی انتظام) کھولیں۔
  2. اپنے فون کی ڈیفالٹ کی بورڈ ایپ (مثلاً گوگل کی بورڈ یا کمپنی کی اپنی کی بورڈ) میں زبانیں منتخب کریں۔
  3. فہرست میں اردو تلاش کر کے شامل کریں۔ اگر فہرست میں اردو کی ایک سے زیادہ صورتیں ہوں تو وہ چنیں جس کے ساتھ پاکستان لکھا ہو۔
  4. کسی بھی میسجنگ ایپ میں کی بورڈ کھول کر اسپیس بار کو دبائے رکھیں یا گلوب والا بٹن دبائیں؛ زبان انگریزی اور اردو کے درمیان بدل جائے گی۔

بعض کی بورڈ ایپس میں صوتی تحریر (آواز سے لکھنا) یا ہاتھ سے لکھنے کا آپشن بھی ہوتا ہے، مگر یہ سہولتیں ایپ اور ورژن پر منحصر ہیں۔ جو آپشن آپ کے فون میں نظر آئے وہی آزمائیں اور نتیجہ ضرور پڑھ کر درست کریں۔

آئی فون اور آئی پیڈ

  1. ترتیبات میں عمومی، پھر کی بورڈ، پھر کی بورڈز کھولیں۔
  2. نیا کی بورڈ شامل کریں پر دبا کر فہرست سے اردو چنیں۔
  3. لے آؤٹ کے مختلف انداز دستیاب ہوں تو اپنی پسند کا ایک چن لیں۔
  4. ٹائپنگ کے وقت نیچے گلوب کا نشان دبا کر زبان بدلیں۔

ونڈوز کمپیوٹر

  1. ترتیبات میں وقت اور زبان کھولیں اور پھر زبان اور علاقہ۔
  2. اردو (پاکستان) شامل کریں اور اس کے ساتھ کی بورڈ کی فہرست دیکھیں۔
  3. ٹاسک بار میں زبان کا مخفف (ENG یا URD) نظر آئے گا۔ اسے دبا کر یا کی بورڈ شارٹ کٹ سے زبان بدل سکتے ہیں۔ عام طور پر ونڈوز کی اور اسپیس بار ساتھ دبانے سے ان پٹ بدلتا ہے۔
  4. اگر آپ کو ان پیج جیسی ترتیب عادت ہے تو دیکھ لیں کہ آپ کے ورژن میں کون سے لے آؤٹ دستیاب ہیں۔ جو لے آؤٹ شامل نہ ہو اس کا وعدہ ہم نہیں کرتے۔

میک

  1. سسٹم سیٹنگز میں کی بورڈ، پھر ان پٹ سورسز (یا ٹیکسٹ ان پٹ) کھولیں۔
  2. اضافہ کا بٹن دبا کر اردو چنیں اور دستیاب لے آؤٹ میں سے ایک منتخب کریں۔
  3. مینو بار میں ان پٹ کا نشان آ جائے گا جہاں سے زبان بدلی جاتی ہے۔

کون سا لے آؤٹ چنیں؟

اردو ٹائپنگ کے بنیادی طور پر دو انداز ہیں، اور دونوں اپنی جگہ درست ہیں۔

پہلوصوتی (فونیٹک)روایتی / ان پیج طرز
اصولحروف آواز کے قریب ترین انگریزی حرف پر ہوتے ہیںحروف کی ترتیب اردو کتابت کے لیے الگ بنائی گئی
کس کے لیے آسانجو رومن اردو لکھتے رہے ہیں، نئے سیکھنے والےجن کے پاس پہلے سے ان پیج یا کمپوزنگ کی مشق ہے
سیکھنے کا وقتچند دنچند ہفتے مشق
کمزوریٹ، ڈ، ڑ، ں جیسے حروف کے لیے شفٹ یا لمبا دبانا پڑتا ہےپہلے چابیوں کی جگہ یاد کرنی پڑتی ہے
موبائل پرعام اور رواںکم دیکھنے میں آتا ہے

عملی مشورہ: اگر آپ دفتر یا پریس میں روزانہ طویل کمپوزنگ نہیں کرتے تو صوتی لے آؤٹ ہی کافی ہے۔ ایک بار لے آؤٹ چن لیں تو کم از کم دو ہفتے اسی پر رہیں؛ بار بار بدلنے سے انگلیاں کسی پر نہیں جمتیں۔

رومن اردو سے اردو رسم الخط تک

بہت سے لوگ واٹس ایپ پر «kia hal hai» لکھتے ہیں۔ رومن اردو کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ اس کا کوئی طے شدہ املا نہیں۔ ایک ہی لفظ «kaam»، «kam» اور «kaaam» تین طرح لکھا جاتا ہے، جبکہ «کام» اور «کم» اردو رسم الخط میں الگ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ اردو رسم الخط میں لکھنے کے فائدے:

  • گوگل اور دوسرے سرچ انجن میں اردو الفاظ سے تلاش آسان ہوتی ہے۔
  • سرکاری درخواست، تعلیمی تحریر اور مضمون میں رومن اردو قابلِ قبول نہیں سمجھی جاتی۔
  • املا جانچنے والے ٹولز صرف اردو رسم الخط پر کام کرتے ہیں۔
  • طویل تحریر پڑھنے میں آسان رہتی ہے اور آواز کی الجھن (جیسے «sehat» بمعنی صحت یا «seht») ختم ہو جاتی ہے۔

منتقلی کا آسان طریقہ یہ ہے: پہلے دن صرف گھر والوں یا قریبی دوستوں کو اردو رسم الخط میں مختصر پیغام بھیجیں۔ ایک ہفتے بعد روزمرہ کے جملے، پھر ای میل کے مسودے۔ رفتار شروع میں کم ہوگی مگر سست روی عارضی ہے۔

خاص حروف کیسے ٹائپ کریں؟

اردو کے کچھ حروف انگریزی کی بورڈ پر براہِ راست نہیں ملتے۔ صوتی کی بورڈ میں یہ عموماً شفٹ والی چابی، لمبے دباؤ یا ثانوی صف میں رکھے جاتے ہیں۔ ہر کی بورڈ کا نقشہ مختلف ہے، اس لیے یہاں ہم حروف کی پہچان اور ان کے درست یونی کوڈ بتاتے ہیں تاکہ آپ جانچ سکیں کہ جو حرف ٹائپ ہوا وہ واقعی صحیح ہے۔

حرفنامدرست یونی کوڈمثال
ٹٹےU+0679ٹوپی، بٹن
ڈڈالU+0688ڈاک، گڑھا
ڑڑےU+0691پڑھنا، بڑا
ںنونِ غنہU+06BAیہاں، میں، کہاں
ےبڑی ےU+06D2لیے، گئے، کیے
ہگول ہU+06C1ہاتھ، کہنا
ھدو چشمی ھU+06BEبھائی، کھانا، پھول
کاردو کافU+06A9کتاب، کام
یچھوٹی یU+06CCیار، دیکھی
ءہمزہU+0621جزء، سوء
ئیائے ہمزہU+0626مسئلہ، کوئی، گئے

ں اور ن کا فرق

نونِ غنہ (ں) ناک کی آواز دیتا ہے اور لفظ کے آخر میں نقطے کے بغیر لکھا جاتا ہے: «میں»، «نہیں»، «کہاں»، «ہوں»۔ عام نون (ن) پر نقطہ ہر جگہ رہتا ہے۔ اگر آپ «مین» لکھ دیں تو لفظ بدل جاتا ہے۔ فونیٹک کی بورڈز میں ں عموماً ن کی چابی کے ساتھ شفٹ یا لمبے دباؤ سے نکلتا ہے۔ ایک ٹیسٹ جملہ ٹائپ کر کے دیکھ لیں: «میں یہاں نہیں ہوں»۔

ہ اور ھ

اردو میں «ہ» لفظ کی اپنی آواز ہے («ہاتھ»، «کہنا»)، جبکہ «ھ» دو چشمی ہے جو دوسرے حرف کے ساتھ مل کر نئی آواز بناتا ہے («بھ»، «پھ»، «تھ»، «ٹھ»، «کھ»، «گھ»، «چھ»، «جھ» وغیرہ)۔ غلط چابی دبانے سے «بھائی» کی جگہ «بہائی» بن جاتا ہے۔ ہمیشہ دیکھیں کہ ھ ایک الگ حرف کے طور پر ٹائپ ہوا، نہ کہ ہ پر کوئی علامت۔

ہمزہ اور ئ کی جگہ

ہمزہ (ء) اور اس کی شکلیں سب سے زیادہ الجھن پیدا کرتی ہیں۔ اردو املا کے بارے میں رشید حسن خان کی «اردو املا» کو بڑے اشاعتی اداروں میں بنیادی حوالہ مانا جاتا ہے۔ اس روایت کے مطابق چند الفاظ یوں لکھے جاتے ہیں:

  • لیے (لئے نہیں)
  • چاہیے (چاہئے یا چاہیئے نہیں)
  • کیجیے (کیجئے نہیں)
  • گئے (گۓ نہیں)
  • مسئلہ (مسلہ نہیں)

ٹائپنگ کی عادت میں ایک بات یاد رکھیں: «گئے» میں پہلے یائے ہمزہ (ئ) آتا ہے اور اس کے بعد بڑی ے۔ بعض کی بورڈز پر «گۓ» جیسی شکل بن جاتی ہے جس میں ہمزہ بڑی ے کے اوپر لگتا ہے (ۓ)؛ اس کے برعکس «گئے» میں ئ اور ے الگ الگ لکھے جاتے ہیں، اور معیاری املا یہی ہے۔

کھڑا زبر اور تنوین

«اعلیٰ»، «عیسیٰ» اور «موسیٰ» میں کھڑا زبر (ٰ) آتا ہے۔ تنوین یعنی «اً» بھی علامتی اعراب ہے۔ «تقریباً»، «فوراً»، «یقیناً»، «اصولاً» میں تنوین الف کے اوپر آتی ہے۔ اکثر لوگ جلدی میں «تقریبن» یا «فورن» لکھ دیتے ہیں جو نون سے بنا غلط املا ہے۔ تنوین کی علامت کو کبھی کبھی کی بورڈ کے ثانوی اعراب والے حصے میں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ نہ ملے تو کاپی پیسٹ کی عادت نہ ڈالیں؛ ایک بار اپنے فون کی ٹیکسٹ شارٹ کٹ فہرست میں بنا لیں تاکہ «تقریباً» خود بخود آ جائے۔

عربی ك اور ي سے بچیں

سب سے خاموش مگر سب سے نقصان دہ غلطی یہ ہے کہ ٹائپ کرتے وقت اردو کے حروف کی جگہ عربی کی بورڈ کے حروف لگ جائیں۔ آنکھ کو فرق نظر نہیں آتا مگر کمپیوٹر کے لیے یہ الگ حروف ہیں۔

اردو (درست)یونی کوڈعربی (غیر مطلوب)یونی کوڈ
کU+06A9كU+0643
یU+06CCيU+064A
ہU+06C1هU+0647

اس کے نتائج عملی ہیں:

  • ایک ہی لفظ «کتاب» اگر دو دستاویزوں میں مختلف حروف سے لکھا ہو تو سرچ میں دونوں ایک دوسرے کو نہیں ملتے۔
  • ورڈ میں تلاش (Find) اور ایکسل میں فلٹر ایسے الفاظ کو الگ شمار کرتے ہیں۔
  • املا جانچ یا ڈکشنری میں لفظ «غلط» دکھایا جا سکتا ہے حالانکہ آپ کو صحیح لگتا ہے۔
  • ڈیٹا بیس یا فارم میں نام بھرتے وقت بعد میں میل کھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

بچاؤ کا طریقہ: (1) ہمیشہ اردو (پاکستان) کی بورڈ استعمال کریں، عربی نہیں؛ (2) پرانی فائلوں کو نئی تحریر میں چسپاں کرتے وقت دیکھ لیں؛ (3) آخر میں اردو اسپیل چیکر میں متن چلائیں۔ یہ ٹول عربی ك/ي کی جگہ اردو ک/ی کی نشاندہی کرتا ہے اور تنوین کی غلطی (جیسے تقریبن) بھی پکڑتا ہے۔ جانچ آپ کے براؤزر ہی میں ہوتی ہے۔ اگر کسی لفظ کے بارے میں شک ہو کہ وہ لغت میں ہے یا نہیں تو اردو لغت میں دیکھ لیں۔

رموزِ اوقاف: اردو کی اپنی علامتیں

انگریزی کی بورڈ سے آنے والی عادت میں کومہ، سوالیہ نشان اور فل اسٹاپ انگریزی شکل کے رہ جاتے ہیں۔ اردو تحریر میں درست علامتیں یہ ہیں:

کاماردو علامتانگریزی علامت جو نہیں لگانی
جملے کا اختتام۔ (U+06D4).
وقفہ / کومہ، (U+060C),
سوالیہ؟ (U+061F)?
نیم وقفہ؛ (U+061B);

علامت سے پہلے خالی جگہ نہ چھوڑیں؛ علامت لفظ سے جڑی ہوتی ہے اور اس کے بعد ایک اسپیس آتی ہے۔ اعداد کے لیے عام لاطینی ہندسے (1 2 3) اور اردو ہندسے (۱ ۲ ۳) دونوں چلتے ہیں، لیکن ایک ہی تحریر میں دونوں کو ملانا اچھا نہیں۔ دفتری اور تعلیمی تحریر میں عموماً عام ہندسے (1، 2، 3) زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔

ٹوٹے ہوئے حروف اور بکھری ہوئی عبارت کی درستی

ورڈ، پی ڈی ایف یا واٹس ایپ میں کبھی کبھی اردو متن یوں دکھتا ہے کہ حروف جڑتے نہیں اور ہر حرف الگ الگ نظر آتا ہے، یا الفاظ کی ترتیب الٹ جاتی ہے۔ اس کی چند عام وجوہ اور حل:

  1. پرانا فونٹ یا غیر یونی کوڈ ٹیکسٹ۔ ان پیج کے پرانے فائلز یا قدیم فونٹ سے بنی تحریر کو براہِ راست کاپی کرنے سے بے معنی علامتیں آتی ہیں۔ حل: ان پیج میں دستاویز کو ایسی صورت میں برآمد کریں جو یونی کوڈ متن دے، یا متن دوبارہ ٹائپ کریں۔ ہم کسی خاص سافٹ ویئر ورژن کے بارے میں یقین سے دعویٰ نہیں کرتے؛ آپ کا ورژن جو برآمدی آپشن دے وہ دیکھیں۔
  2. فونٹ میں اردو کی شکلیں نہ ہونا۔ اگر فونٹ صرف لاطینی یا عربی کے لیے بنا ہو تو ک اور ی کی شکلیں بگڑ جاتی ہیں۔ حل: ایسا فونٹ چنیں جو نستعلیق یا نسخ میں اردو کو سہارا دے۔
  3. رخ کی ترتیب (RTL) درست نہ ہونا۔ ورڈ میں پیراگراف کی سمت دائیں سے بائیں رکھیں۔ ایک جملے میں انگریزی نام یا اعداد ہوں تو وہ خودبخود بائیں سے دائیں رہتے ہیں، مگر اوقاف کی جگہ بدل سکتی ہے؛ ایسے میں جملے کو اردو لفظ پر ختم کریں یا علامت پر کرسر رکھ کر دوبارہ ٹائپ کریں۔
  4. پوشیدہ کنٹرول حروف۔ کبھی کاپی پیسٹ کے ساتھ غیر مرئی علامات آ جاتی ہیں جو حروف کو جوڑنے یا توڑنے کا اثر ڈالتی ہیں۔ حل: متن کو سادہ ٹیکسٹ ایڈیٹر (نوٹ پیڈ جیسی سادہ ایپ) میں چسپاں کر کے دوبارہ نقل کریں۔
  5. واٹس ایپ میں اعراب اور تنوین۔ میسجنگ ایپ بعض اوقات علامتوں کو الگ دکھاتی ہے۔ حل: ضروری ہو تو تنوین والا لفظ دوبارہ ٹائپ کریں اور بھیجنے سے پہلے پیش منظر دیکھیں۔

اگر پوری عبارت میں ایک ساتھ سب ٹھیک کرنا ہو تو پہلے متن کو سادہ شکل میں لائیں، پھر اردو اسپیل چیکر کھولیں۔ ایک بار میں زیادہ سے زیادہ 6,000 حروف تک متن دیا جا سکتا ہے، لہٰذا طویل دستاویز کو حصوں میں چلائیں۔

ٹائپنگ کے بعد ایک مختصر جانچ فہرست

  1. کیا ک، ی، ہ سب اردو یونی کوڈ والے ہیں؟
  2. کیا نونِ غنہ (ں) درست جگہ آیا ہے: میں، نہیں، کہاں؟
  3. کیا ہمزہ والے الفاظ (لیے، چاہیے، گئے، مسئلہ) درست لکھے ہیں؟
  4. کیا تنوین «اً» اپنی جگہ ہے، نون نہیں؟
  5. کیا جملے کے آخر میں «۔» ہے اور کومہ «،» ہے؟
  6. کیا خالی جگہ علامت سے پہلے نہیں؟
  7. کیا ہندسے ایک ہی انداز کے ہیں؟
  8. کیا فونٹ میں اردو درست جڑتی ہے؟
  9. متن ٹول میں چلا کر دیکھ لیا؟

ایڈیپٹ رائٹ کے ٹولز کیسے مدد دیتے ہیں

اردو متن لکھ لینے کے بعد اردو اسپیل چیکر ٹائپنگ کی غلطیاں، تنوین اور ك/ي کے عربی حروف پکڑتا ہے۔ اردو گرامر چیکر گرامر اور رموزِ اوقاف دیکھتا ہے اور ہر تبدیلی نمایاں کرتا ہے۔ اگر آپ رومن اردو میں لکھا مسودہ رکھتے ہیں تو اردو مترجم سے بھی مدد لے سکتے ہیں، مگر اے آئی کا نتیجہ ہمیشہ مسودہ ہے؛ اسے خود پڑھ کر درست کریں۔ ٹول لکھنے والے کی جگہ نہیں لیتے اور کسی بھی نتیجے کی مکمل درستی کی ضمانت نہیں دی جاتی۔ لفظوں کی تعداد کے لیے الفاظ شمار بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

جن الفاظ کے املا میں بار بار الجھن ہوتی ہو ان کی فہرست عام طور پر الجھنے والے اردو الفاظ میں دیکھیں، اور اصولوں کی تفصیل کے لیے اردو املا کے اصول کا صفحہ ہے۔

اردو املا کے بنیادی مراجع

اردو لغت بورڈ کراچی کی «اردو لغت» (بائیس جلدیں) تحریر میں لفظ کی صورت اور معنی کے لیے بنیادی مرجع سمجھی جاتی ہے۔ ادارۂ فروغِ قومی زبان (اسلام آباد) زبان کے فروغ اور اصطلاحات کا سرکاری ادارہ ہے۔ املا کی بحثوں میں رشید حسن خان کی «اردو املا» وسیع پیمانے پر مانی جاتی ہے۔ ان کے طے کردہ اصولوں میں ذرا سا اختلاف بھی ملتا ہے، جیسے «ذمے داری» اور «ذمہ داری»، «علاحدہ» اور «علیحدہ»؛ اس لیے اگر آپ کسی جامعہ، رسالے یا ادارے کے لیے لکھ رہے ہیں تو ان کی ہدایات کو ترجیح دیں اور تحریر میں ایک ہی انداز رکھیں۔

ٹولز آزمائیں

اردو اسپیل چیکر (املا کی جانچ)
ٹائپنگ کی غلطیاں، تنوین کی غلطی (تقریبن کے بجائے تقریباً) اور عربی ك/ي کی جگہ اردو ک/ی پکڑیں — جانچ آپ کے براؤزر ہی میں ہوتی ہے۔
ٹول کھولیں
اردو گرامر چیکر
اردو، انگریزی اور دوسری زبانوں میں گرامر، املا اور رموزِ اوقاف کی غلطیاں درست کریں — ہر تبدیلی نمایاں ہوتی ہے۔
ٹول کھولیں
اردو لغت اور لفظ کی جانچ
کیا یہ لفظ درست ہے؟ اردو الفاظ کی کھلی فہرست میں دیکھیں، املا کی تجاویز اور ویکی لغت سے معنی کے ساتھ۔
ٹول کھولیں
اردو مترجم (اے آئی ترجمہ)
95 زبانوں سے اردو میں اور اردو سے دوسری زبانوں میں فطری، رسمی یا بے تکلف ترجمہ؛ ماخذ زبان خود پہچانی جاتی ہے۔
ٹول کھولیں
الفاظ اور حروف شمار (ورڈ کاؤنٹر)
الفاظ، حروف، جملے اور پڑھنے کا وقت گنیں۔
ٹول کھولیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اردو ٹائپ کرنے کے لیے کیا الگ سافٹ ویئر چاہیے؟

عام طور پر نہیں۔ اینڈرائیڈ، آئی فون، ونڈوز اور میک کی ترتیبات میں اردو کی بورڈ شامل کیا جا سکتا ہے۔ مینو کے نام ورژن کے مطابق بدلتے ہیں، اس لیے زبان یا کی بورڈ کی ترتیب تلاش کریں۔ پرانے ان پیج فائلوں کے لیے برآمدی اختیار الگ دیکھنا پڑ سکتا ہے۔

رومن اردو سے اردو رسم الخط میں کیسے آئیں؟

صوتی لے آؤٹ سے شروع کریں، کیونکہ اس میں حروف آواز کے قریب ہوتے ہیں۔ پہلے مختصر پیغامات اردو میں لکھیں، پھر روزمرہ جملے اور ای میل۔ ٹائپ کے بعد املا چیکر سے جانچ لیں۔ رفتار شروع میں کم ہوتی ہے مگر مشق سے بہتر ہو جاتی ہے۔

عربی ك اور ي ٹائپ ہو جائیں تو کیا مسئلہ ہے؟

ظاہری فرق کم ہے مگر کمپیوٹر انہیں الگ حروف سمجھتا ہے، اس لیے سرچ، فلٹر اور املا جانچ میں الفاظ نہیں ملتے۔ درست حروف ک (U+06A9)، ی (U+06CC) اور ہ (U+06C1) ہیں۔ اردو اسپیل چیکر ایسے عربی حروف کی نشاندہی کرتا ہے۔

اردو متن ورڈ یا واٹس ایپ میں ٹوٹا ہوا کیوں دکھتا ہے؟

وجہ عموماً پرانا غیر یونی کوڈ متن، ایسا فونٹ جس میں اردو شکلیں نہ ہوں، پیراگراف کی سمت کا درست نہ ہونا یا کاپی کے ساتھ آئی پوشیدہ علامتیں ہوتی ہیں۔ متن کو سادہ ٹیکسٹ میں چسپاں کریں، اردو فونٹ چنیں اور سمت دائیں سے بائیں کر لیں۔

تمام رہنما