حوالہ کیوں دیا جاتا ہے؟
حوالہ بتاتا ہے کہ کوئی خیال، عدد یا اقتباس کہاں سے آیا۔ یہ قاری کو ماخذ تک پہنچاتا ہے اور آپ کو سرقے کے الزام سے بچاتا ہے۔ ماخذ کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں لکھنے کے بعد بھی حوالہ لازم رہتا ہے؛ دیکھیں سرقہ (پلیجرزم) کیا ہے؟۔
کون سا انداز کب؟
| انداز | متن میں | عام شعبے |
|---|---|---|
| APA 7 | (Khan, 2021) | نفسیات، تعلیم، سماجی علوم |
| MLA 9 | (Khan 45) | ادب، زبان، انسانیات |
| Chicago | (Khan 2021, 45) یا حاشیہ | تاریخ، فنون |
| Harvard | (Khan 2021, p. 45) | کاروبار، سماجی علوم |
| IEEE | [1] | انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس |
اپنا انداز اس سے طے ہوتا ہے جو آپ کا شعبہ، سپروائزر یا رسالہ مانگے۔ پاکستان اور بھارت کی جامعات میں ہدایات مختلف ہو سکتی ہیں؛ ہمارا ٹول کسی خاص یونیورسٹی کے قواعد کی ضمانت نہیں دیتا۔ مزید کے لیے پاکستان میں حوالے کا انداز دیکھیں۔
اردو ماخذ کا حوالہ
اردو کتاب یا رسالے کا حوالہ دیتے وقت دو راستے ہیں: اردو ہی میں عنوان لکھیں، یا رومن اور انگریزی ترجمہ ساتھ دیں۔ کون سا راستہ درست ہے، یہ آپ کی یونیورسٹی طے کرتی ہے۔ ٹول میں اردو عنوان اور مصنف کا نام جوں کا توں بھر سکتے ہیں۔ ربط کے الفاظ انگریزی میں رہیں گے، اس لیے جہاں اردو کی شرط ہو وہاں آخر میں ہاتھ سے درست کریں۔
حوالہ کب لازم ہے؟
کسی اور کے الفاظ، اعداد، نقشے، جدول یا بنیادی خیال کے ساتھ حوالہ لازم ہے۔ عام معلومات، جیسے «لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے»، کو عموماً حوالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شک ہو تو حوالہ دے دیں۔
ٹول کی حدیں
- نتیجہ آپ کے بھرے ہوئے ڈیٹا کا عکس ہے۔ غلط سال یا ہجے بھریں گے تو وہی نکلیں گے۔
- URL یا DOI سے ماخذ کی معلومات خود نہیں کھینچی جاتیں۔
- پانچ انداز سے باہر، مثلاً کسی ادارے کا اپنا انداز، دستیاب نہیں۔
- فارمیٹنگ، جیسے ترچھے حروف، چسپاں کرتے وقت اپنے ورڈ پروسیسر میں جانچ لیں۔
جمع کرانے سے پہلے نتیجہ اپنی یونیورسٹی یا رسالے کی رہنمائی سے ملا لیں۔