حوالہ جات جنریٹر (سائٹیشن)

ماخذ کی تفصیل فارم میں بھریں اور پانچ معروف اندازوں میں حوالہ اور کتابیات کی اندراج پائیں۔

انداز

ماخذ کی تفصیل درج کریں — کتاب، کتاب کا باب، تحقیقی مضمون، ویب سائٹ، مقالہ، رپورٹ یا ویڈیو — پھر APA 7، MLA 9، Chicago، Harvard یا IEEE چنیں۔ کتابیات کا اندراج اور متن کے اندر حوالہ فوراً تیار ہو جاتا ہے۔

ماخذ کی قسم: کتاب, تحقیقی مضمون, ویب صفحہ, … · APA 7 · MLA 9 · Chicago · Harvard · IEEE

آپ کا حوالہ اور کتابیات کا اندراج یہاں نظر آئے گا۔

آپ کا متن کبھی محفوظ نہیں کیا جاتا۔ بنیادی سہولیات ہمیشہ مفت۔

خلاصہ

ایڈیپٹ رائٹ کا حوالہ جات جنریٹر ماخذ کی تفصیل سے APA 7، MLA 9، Chicago، Harvard یا IEEE انداز میں حوالہ بناتا ہے۔ ماخذ کی قسم چنیں، مصنف، عنوان، سال، ناشر، جلد، صفحات، ویب لنک یا DOI بھریں، پھر انداز چنیں۔ آپ کو کتابیات کی اندراج اور متن کے اندر کا حوالہ ملتا ہے۔ سارا حساب آپ کے براؤزر میں ہوتا ہے۔ حتمی جمع کرانے سے پہلے اپنی یونیورسٹی کی رہنمائی سے مطابقت ضرور جانچیں۔

استعمال کا طریقہ حوالہ جات جنریٹر (سائٹیشن)

  1. ماخذ کی قسم چنیں: کتاب، رسالے کا مقالہ، ویب صفحہ وغیرہ۔
  2. مصنف، عنوان، سال، ناشر یا رسالہ، جلد، شمارہ، صفحات اور ضرورت ہو تو URL یا DOI بھریں۔
  3. انداز چنیں: APA 7، MLA 9، Chicago، Harvard یا IEEE۔
  4. تیار حوالہ کاپی کریں، فہرست میں شامل کریں اور سب حوالے ایک ساتھ کاپی کر لیں۔

پہلے اور بعد

پہلے
ماخذ: رسالے کا مقالہ۔ مصنف: Ayesha Khan۔ عنوان: Social media use and academic performance of university students in Lahore۔ رسالہ: Pakistan Journal of Education۔ سال 2021، جلد 38، شمارہ 2، صفحات 45-62۔
بعد
Khan, A. (2021). Social media use and academic performance of university students in Lahore. Pakistan Journal of Education, 38(2), 45–62.

نوٹ: APA 7 انداز۔ مثال میں مقالہ فرضی ہے اور صرف شکل دکھانے کے لیے ہے۔ انگریزی ماخذ کا حوالہ انگریزی ہی میں بنتا ہے؛ ٹول کے ربط کے الفاظ (et al.، pp.، n.d.) فی الحال انگریزی میں آتے ہیں۔

سہولیات اور انداز

دستیاب انداز: APA 7 · MLA 9 · Chicago · Harvard · IEEE

  • پانچ انداز — APA 7، MLA 9، Chicago، Harvard اور IEEE۔ ایک ہی فارم سے انداز بدل کر دیکھیں کہ وہی ماخذ کیسے لکھا جاتا ہے۔
  • فارم پر مبنی — مصنفین، سال، ناشر، جلد، شمارہ، صفحات، URL، DOI اور رسائی کی تاریخ کے خانے ہیں، اس لیے فارمیٹنگ کے نشانات خود لگانے نہیں پڑتے۔
  • متن کے اندر حوالہ بھی — کتابیات کی اندراج کے ساتھ متن میں لگانے والا مختصر حوالہ بھی ملتا ہے، جیسے (Khan, 2021)۔
  • فہرست بنائیں — کئی حوالے ایک فہرست میں جمع کر کے ایک ساتھ کاپی کیے جا سکتے ہیں۔
  • براؤزر میں، بغیر کوٹے کے — یہ ٹول مقامی طور پر چلتا ہے، AI سروس استعمال نہیں کرتا اور آپ کا بھرا ہوا ماخذ سرور پر نہیں جاتا۔

کن کے لیے

بی ایس اور ایم فل کے طلبہ
تھیسس اور اسائنمنٹ کی کتابیات APA 7 میں، جو سماجی علوم اور تعلیم کے شعبوں میں عام ہے۔
ادب اور انسانیات کے طلبہ
MLA 9 یا Chicago میں مضمون کے آخر کا حوالہ، جو ادب اور تاریخ میں اکثر مانگا جاتا ہے۔
انجینئرنگ اور کمپیوٹر سائنس
IEEE کے عددی حوالے، جیسے [1]، [2]، جو تکنیکی رسالوں اور کانفرنسوں میں چلتے ہیں۔
محقق اور استاد
ایک ہی ماخذ کو مختلف رسالوں کے اندازوں میں تیزی سے بدل کر دیکھیں۔

حوالہ کیوں دیا جاتا ہے؟

حوالہ بتاتا ہے کہ کوئی خیال، عدد یا اقتباس کہاں سے آیا۔ یہ قاری کو ماخذ تک پہنچاتا ہے اور آپ کو سرقے کے الزام سے بچاتا ہے۔ ماخذ کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں لکھنے کے بعد بھی حوالہ لازم رہتا ہے؛ دیکھیں سرقہ (پلیجرزم) کیا ہے؟۔

کون سا انداز کب؟

اندازمتن میںعام شعبے
APA 7(Khan, 2021)نفسیات، تعلیم، سماجی علوم
MLA 9(Khan 45)ادب، زبان، انسانیات
Chicago(Khan 2021, 45) یا حاشیہتاریخ، فنون
Harvard(Khan 2021, p. 45)کاروبار، سماجی علوم
IEEE[1]انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس

اپنا انداز اس سے طے ہوتا ہے جو آپ کا شعبہ، سپروائزر یا رسالہ مانگے۔ پاکستان اور بھارت کی جامعات میں ہدایات مختلف ہو سکتی ہیں؛ ہمارا ٹول کسی خاص یونیورسٹی کے قواعد کی ضمانت نہیں دیتا۔ مزید کے لیے پاکستان میں حوالے کا انداز دیکھیں۔

اردو ماخذ کا حوالہ

اردو کتاب یا رسالے کا حوالہ دیتے وقت دو راستے ہیں: اردو ہی میں عنوان لکھیں، یا رومن اور انگریزی ترجمہ ساتھ دیں۔ کون سا راستہ درست ہے، یہ آپ کی یونیورسٹی طے کرتی ہے۔ ٹول میں اردو عنوان اور مصنف کا نام جوں کا توں بھر سکتے ہیں۔ ربط کے الفاظ انگریزی میں رہیں گے، اس لیے جہاں اردو کی شرط ہو وہاں آخر میں ہاتھ سے درست کریں۔

حوالہ کب لازم ہے؟

کسی اور کے الفاظ، اعداد، نقشے، جدول یا بنیادی خیال کے ساتھ حوالہ لازم ہے۔ عام معلومات، جیسے «لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے»، کو عموماً حوالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شک ہو تو حوالہ دے دیں۔

ٹول کی حدیں

  • نتیجہ آپ کے بھرے ہوئے ڈیٹا کا عکس ہے۔ غلط سال یا ہجے بھریں گے تو وہی نکلیں گے۔
  • URL یا DOI سے ماخذ کی معلومات خود نہیں کھینچی جاتیں۔
  • پانچ انداز سے باہر، مثلاً کسی ادارے کا اپنا انداز، دستیاب نہیں۔
  • فارمیٹنگ، جیسے ترچھے حروف، چسپاں کرتے وقت اپنے ورڈ پروسیسر میں جانچ لیں۔

جمع کرانے سے پہلے نتیجہ اپنی یونیورسٹی یا رسالے کی رہنمائی سے ملا لیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا حوالہ جات جنریٹر مفت ہے؟

جی ہاں۔ یہ مفت ہے، اکاؤنٹ نہیں مانگتا اور آپ کے براؤزر میں چلتا ہے۔ AI کے کوٹے سے اس کا تعلق نہیں، اس لیے جتنے چاہیں حوالے بنا سکتے ہیں۔

کون سے انداز دستیاب ہیں؟

APA 7، MLA 9، Chicago، Harvard اور IEEE۔ کسی خاص یونیورسٹی کا اپنا انداز یا کوئی اور معیار ابھی شامل نہیں؛ ایسی صورت میں قریب ترین انداز بنا کر ہاتھ سے ایڈٹ کریں۔

کیا اردو کتاب کا حوالہ بن سکتا ہے؟

جی ہاں، اردو مصنف اور عنوان خانوں میں لکھیں۔ ربط کے الفاظ جیسے et al. اور pp. انگریزی میں آتے ہیں۔ اگر آپ کی یونیورسٹی انہیں اردو میں مانگتی ہے تو آخر میں خود بدل لیں۔

کیا نتیجہ ہمیشہ درست ہوتا ہے؟

نہیں۔ ٹول انداز کے قواعد لگاتا ہے مگر ہر ماخذ کی خاص صورت نہیں پکڑ سکتا۔ حتمی جمع سے پہلے نتیجہ اپنی رہنمائی یا انداز کی کتابچے سے ملا لیں۔

متن کے اندر والا حوالہ بھی ملتا ہے؟

جی ہاں، کتابیات کی اندراج کے ساتھ متن کا مختصر حوالہ بھی بنتا ہے، جیسے APA میں (Khan, 2021) اور IEEE میں عدد۔ کتنے مصنفین پر et al. لکھنا ہے یہ انداز کے قاعدے سے طے ہوتا ہے۔

کیا میرا ڈیٹا سرور پر جاتا ہے؟

نہیں۔ فارم کا ڈیٹا آپ کے براؤزر ہی میں پروسیس ہوتا ہے اور سرور کو نہیں بھیجا جاتا۔ فہرست صفحہ بند کرنے پر ختم ہو جاتی ہے، اس لیے ضروری حوالے کاپی کر کے رکھ لیں۔

متعلقہ رہنما

حوالہ جات جنریٹر (سائٹیشن) مفت آزمائیں
متن چسپاں کریں، انداز چنیں، کام ختم۔ رجسٹریشن نہیں۔
حوالہ بنائیں