یہ ٹول کیا کرتا ہے
مضمون نویسی میں سب سے مشکل کام اکثر پہلا جملہ اور نکات کو جوڑنا ہوتا ہے۔ یہ ٹول آپ کے نکات کو مربوط پیراگراف میں بدل کر وہی ابتدائی ڈھانچہ دیتا ہے۔ یہ مسودہ سازی کا ذریعہ ہے؛ تحقیق، حوالہ جات اور آپ کے اسائنمنٹ کی ہدایات کی جگہ نہیں لے سکتا۔
کون سا انداز کب چنیں؟
| انداز | کس کے لیے | نتیجہ |
|---|---|---|
| علمی | اسائنمنٹ، مضمون، تحقیقی تحریر | دعویٰ، دلیل، اعتراض اور موقف کی منظم ترتیب |
| تخلیقی | بیانیہ، تقریر، کالم | زیادہ رواں اور تصویری زبان |
| مفصل | مختصر نکات جنہیں پھیلانا ہو | وضاحت کے ساتھ تقریباً 400 سے 700 الفاظ کا مسودہ |
بہتر نتیجے کے لیے نکات کیسے لکھیں
- ہر نکتہ دعوے کی صورت میں لکھیں ("یونیفارم خرچ کم کرتا ہے")، صرف موضوع نہیں ("خرچ")۔
- ثبوت نکتے ہی میں رکھیں: عدد، ماخذ یا کلاس میں پڑھی مثال۔ ٹول اپنی طرف سے کوئی ثبوت نہیں گھڑتا۔
- نکات اس ترتیب میں لکھیں جس میں آپ دلیل دینا چاہتے ہیں؛ مسودہ اسی پر چلتا ہے۔
- پہلے خاکہ ساز سے ڈھانچہ بنائیں، پھر ہر حصے کے نکات یہاں ڈالیں۔
ایک مثال: نکات سے مسودے تک
فرض کریں آپ کو "ماحولیاتی آلودگی" پر مضمون لکھنا ہے۔ پہلے اپنے چار پانچ نکات لکھیں: آلودگی کی ایک وجہ، ایک نقصان، ایک حل اور اپنا موقف۔ جو عدد یا واقعہ ڈالنا ہو، اپنے ماخذ سے دیکھ کر نکتے میں لکھ دیں۔ پھر علمی انداز چنیں۔ ٹول انہی نکات کو تمہید، وضاحت اور خاتمے کی صورت میں جوڑ دے گا۔ اس کے بعد اصل کام آپ کا ہے: جملے اپنی زبان میں ڈھالنا اور مثالیں مقامی بنانا۔
تعلیمی دیانت داری
مسودہ آپ کی محنت کی جگہ نہیں لیتا۔ اپنی جامعہ یا بورڈ کی اے آئی پالیسی پڑھیں؛ جہاں اجازت ہو وہاں بھی مسودے کو اپنے الفاظ میں ڈھالیں، حقائق اپنے ماخذ سے جانچیں اور جہاں ادارہ تقاضا کرے اے آئی کی مدد کا ذکر کریں۔ ماخذ لکھنے کے لیے حوالہ جات جنریٹر اور آخر میں پلیجرزم چیکر استعمال کریں۔
حدود
ایک بار میں 6,000 حروف تک نکات لیے جاتے ہیں۔ ٹول حقائق کی تصدیق کر سکتا ہے نہ ماخذ ڈھونڈ سکتا ہے، اس لیے ہر دعویٰ آپ کو خود جانچنا ہوگا۔ زبان کی غلطیوں کے لیے آخر میں گرامر چیکر سے دیکھ لیں۔