سرقہ اور مماثلت میں فرق
مماثلت کا فیصد بتاتا ہے کہ آپ کے متن کا کتنا حصہ کہیں اور ملتا ہے۔ سرقہ اس سے آگے کی بات ہے: دوسرے کا کام بغیر حوالے کے اپنا بتانا۔ دو صورتیں ہیں: مثلاً حوالے کے ساتھ دیا ہوا اقتباس مماثلت دکھائے گا مگر سرقہ نہیں ہے؛ اور ماخذ کے الفاظ ذرا بدل کر بغیر حوالے لکھنا مماثلت کم دکھائے گا مگر پھر بھی سرقہ ہو سکتا ہے۔ تفصیل کے لیے سرقہ (پلیجرزم) کیا ہے؟ دیکھیں۔
رپورٹ کیسے پڑھیں؟
- پہلے «جن ذرائع میں دیکھا گیا» کی فہرست دیکھیں۔ اگر کوئی ذریعہ جواب نہیں دے سکا تو نتیجہ جزوی ہے۔
- فیصد کو آخر میں دیکھیں؛ پہلے نمایاں حصے اور ان کے ماخذ کھول کر پڑھیں۔
- اقتباس ہو تو واوین اور حوالہ لگائیں؛ بے ارادہ مماثلت ہو تو اپنے الفاظ میں دوبارہ لکھیں، ماخذ کا نام دیں اور دوبارہ جانچیں۔
اردو تحریر کے لیے خاص باتیں
اردو کی بہت سی علمی نقلیں انگریزی ماخذ کے ترجمے سے آتی ہیں۔ ایسا ترجمہ اکثر ٹول کو نہیں ملتا مگر استاد کی نظر میں پھر بھی سرقہ ہے، اس لیے انگریزی ماخذ کا حوالہ لازم دیں۔ اسی طرح اردو ویب سائٹوں، نوٹس کی دکانوں اور واٹس ایپ گروپوں کے نوٹس بھی ماخذ ہیں، چاہے ٹول انہیں نہ پکڑ سکے۔ حوالے کے لیے حوالہ جات جنریٹر اور مفہوم بدلنے کے لیے اردو پیرا فریزنگ ٹول دیکھیں، مگر پیرا فریز شدہ متن کا حوالہ پھر بھی دینا ہوتا ہے۔