گرامر چیکر کیا پکڑتا ہے؟
اردو میں سب سے عام غلطیاں ایک ہی گھرانے کی ہوتی ہیں: فعل کا مفعول کے مطابق نہ بدلنا («کتابیں پڑھا» کی جگہ «پڑھیں»)، تذکیر و تانیث کی گڑبڑ، حروفِ جار کا غلط انتخاب، اور ہمزہ والے الفاظ کا املا («چاہئے» کی جگہ «چاہیے»)۔ ٹول انہیں اور ان جیسی غلطیوں کو درست کرتا ہے اور تبدیلیاں نمایاں کرتا ہے تاکہ آپ سیکھ بھی سکیں۔
چیکر کیا نہیں کر سکتا؟
یہ مصنف کی جگہ نہیں لیتا۔ AI کی اصلاح اردو میں بھی غلط ہو سکتی ہے، خاص طور پر اشعار، محاوروں، مرکب افعال اور ملی جلی انگریزی اردو عبارت میں۔ ہم درستی کا کوئی فیصد دعویٰ نہیں کرتے۔ اردو کے لیے استعمال ہونے والے ماڈل کا معیار انگریزی سے کم ہو سکتا ہے، اس لیے ہر تجویز پڑھ کر ہی قبول کریں۔ نام، اعداد، تاریخیں اور قانونی عبارت خاص طور پر دیکھیں۔
رموزِ اوقاف اور اردو کے نشانات
اردو کا ختمہ «۔» ہے، سوالیہ نشان «؟» اور سکتہ «،»۔ انگریزی کے . ? , اردو متن میں ملیں تو غلط شمار ہوتے ہیں۔ نشان سے پہلے خالی جگہ نہیں آتی۔ یہ سب خود دیکھنے میں وقت لگتا ہے، چیکر یہ ایک بار میں کر دیتا ہے۔ نشانات کی تفصیل اردو رموزِ اوقاف کے رہنما میں ہے۔
گرامر چیک اور املا چیک میں فرق
گرامر چیکر پورے جملے کے تعلقات دیکھتا ہے۔ اردو اسپیل چیکر الگ چلتا ہے، آپ کے براؤزر میں، ایک اردو الفاظ کی فہرست کی مدد سے اور بغیر AI کے؛ وہ لفظ کی صورت دیکھتا ہے۔ بہتر ترتیب یہ ہے: پہلے گرامر، پھر املا، پھر لہجہ یا جملوں کی درستی اگر عبارت بوجھل ہو۔
موبائل پر اردو لکھنے والوں کے لیے
اگر آپ فون پر لکھتے ہیں تو ہمزہ، یے کی شکلیں اور ک/ی کے کوڈ پوائنٹ الجھ سکتے ہیں، کیونکہ کچھ کی بورڈ عربی «ك ي» لگا دیتے ہیں۔ متن چیک کرنے کے بعد اسپیل چیکر سے یہ مسئلہ الگ سے پکڑوا لیں۔
حد
ایک بار میں 6,000 حروف تک۔ طویل متن حصوں میں چلائیں۔ فی منٹ ایک آئی پی سے 30 درخواستیں۔