اردو سے ہندی ترجمہ: نستعلیق سے دیوناگری تک
اردو ہندی
آپ کا متن کبھی محفوظ نہیں کیا جاتا۔ بنیادی سہولیات ہمیشہ مفت۔
اردو اور ہندی کی گرامر اور روزمرہ الفاظ لگ بھگ ایک ہیں، فرق رسم الخط اور بلند الفاظ کا ہے۔ اس لیے اردو سے ہندی کا ترجمہ آدھا رسم الخط کی تبدیلی ہے اور آدھا فارسی اور عربی الفاظ کے مقابل سنسکرت الفاظ کا انتخاب۔ بے تکلف لہجہ بول چال کے قریب رہتا ہے اور رسمی لہجہ سرکاری ہندی کی طرف جاتا ہے۔ نتیجہ کسی ہندی جاننے والے سے ایک نظر دکھا لیں۔
اس زبان کے جوڑے کے لیے مشورے
- نقطے والے حروف پر نظر رکھیں۔ ق، خ، غ، ز، ف دیوناگری میں نقطے (नुक़्ता) کے ساتھ لکھے جاتے ہیں، جیسے क़ ख़ ग़ ज़ फ़۔ غزل کو ग़ज़ल لکھنا چاہیے، गजल نہیں۔
- لہجے کے مطابق لفظ چنیں۔ «شکریہ» روزمرہ میں शुक्रिया ہے اور رسمی ہندی میں धन्यवाद؛ «امتحان» इम्तिहान بھی ہے اور परीक्षा بھی۔ بے تکلف لہجہ پہلے والے اور رسمی دوسرے کی طرف جاتا ہے۔
- اضافت والی فارسی ترکیبیں صاف کریں۔ «وزیرِ اعظم» کو प्रधानमंत्री اور «حسنِ اخلاق» کو अच्छा आचरण جیسے ہندی مرکبات سے بدلنا فطری ہے۔
- نام اور مذہبی اصطلاحات رسمی کاغذات کی ہجے کے مطابق رکھیں۔ «محمد اسلم» मोहम्मद असलम بھی لکھا جاتا ہے اور मुहम्मद بھی؛ «ان شاء اللہ» इंशाअल्लाह ہے۔
- شاعری کو لفظ بہ لفظ نہ بدلیں۔ ہندی قاری غزل، شعر اور مطلع کے الفاظ جانتے ہیں، اس لیے مشکل اردو لفظ کے نیچے مفہوم کا فٹ نوٹ دیں۔
ترجمے کی مثالیں
| اصل · اردو | ترجمہ · ہندی | ترجمہ اس طرح کیوں کیا گیا |
|---|---|---|
| آپ کا بہت بہت شکریہ، آپ نے ہماری بہت مدد کی۔ | आपका बहुत-बहुत शुक्रिया, आपने हमारी बहुत मदद की। | بے تکلف لہجے میں «شکریہ» اور «مدد» ہندی میں بھی چلتے ہیں۔ رسمی ہندی میں धन्यवाद اور सहायता لکھتے۔ |
| کل امتحان کا نتیجہ آئے گا۔ | कल परीक्षा का परिणाम आएगा। | «کل» ہندی میں بھی कल ہے اور مطلب سیاق سے طے ہوتا ہے؛ یہاں «آئے گا» سے مراد آنے والا کل ہے۔ «نتیجہ» کی جگہ परिणाम رسمی ہے۔ |
| یہ ایک مشکل مسئلہ ہے، مگر حل ہو جائے گا۔ | यह एक मुश्किल मसला है, मगर हल हो जाएगा। | جملہ ہو بہو چلتا ہے۔ رسمی ہندی میں समस्या اور किंतु آتے۔ |
| ہم نے غزل کا ایک شعر سنا۔ | हमने ग़ज़ल का एक शेर सुना। | ग़ में نقطہ ضروری ہے کیونکہ یہ غ ہے۔ «ہم نے» ہندی میں हमने ایک لفظ لکھا جاتا ہے۔ |
| محمد اسلم لاہور سے آئے ہیں۔ | मोहम्मद असलम लाहौर से आए हैं। | نام اور شہر کی ہجے وہی رکھیں جو کاغذات میں ہے۔ «آئے ہیں» جمع احترام کی وجہ سے ہے۔ |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یہ ترجمہ ہے یا صرف رسم الخط کی تبدیلی؟
مترجم مفہوم کا ترجمہ کرتا ہے، لفظ بہ لفظ حرف تبدیل نہیں کرتا، اس لیے رسمی لہجے میں فارسی عربی الفاظ ہندی متبادل میں بدل سکتے ہیں۔ جیسا لفظ چاہیے، اس کے مطابق لہجہ چنیں۔
کیا نتیجہ دیوناگری میں آتا ہے؟
ہندی کا عام رسم الخط دیوناگری ہے اور ہدف ہندی چننے پر یہی توقع رکھیں۔ پھر بھی نقطوں اور ناموں کی ہجے خود دیکھ لیں، خاص طور پر ग़، ज़، फ़ اور क़ والے الفاظ۔
کیا اشعار یا ادبی متن کا ترجمہ بھی ہو سکتا ہے؟
مسودے کے طور پر ہاں، مگر شعر کی روانی، قافیے اور ابہام مشین سے محفوظ نہیں رہتے۔ ادبی متن کے لیے ہندی کے کسی قاری سے رائے ضرور لیں۔